محفل نعت وکلام -فروری 2015
محفل کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا اور نعتیہ وعارفانہ کلام کے نذرانے محترمہ مہوش مسعود صاحبہ، محترمہ سلطانہ ناصر صاحبہ، محترمہ رقیہ اکمل صاحبہ اور لاثانی نعت و کلام کونسل میں زیر تربیت خواتین نے پیش کئے۔ دانیال ٹائون اور امین پارک حلقہ سے خصوصی طور پر خواتین نے کلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ۔
شان اولیا کے حوالے سے سجی اس محفل میں مرشد کریم صوفی مسعود احمد صدیقی المعروف لاثانی سرکار نے اہل محفل کو اپنے زیارت پاک سے نوازا۔
مرشد کریم لاثانی سرکار نے خواتین کو اپنی اصلاح کے حوالے سے اہم نکات پر بیان فرمایا۔ آپ مدظلہ العالی نے فرمایا کہ خواتین بہترین ماں، بہترین بیٹی اور بہترین بہو کا کردار ادا کریں تاکہ اپنے گھروں کے ماحول کو خوشگوار اور پرسکون بنا سکیں۔ مائیں اپنے گھروں میں بہوؤں اور بیٹیوں کو برابر درجہ دیں بیٹی کی طرح بہو کا بھی خیال رکھیں۔ اور بہو کو چاہئے کہ وہ اپنی ساس کی ماں کی طرح خدمت کرے تاکہ ان کے دل میں نرمی اور محبت پیدا ہو۔ اگر دونوں طرف سے مثبت کردار ہوگا تو یقینا گھر کا ماحول پر امن ہوگا۔
آپ سرکار نے اخلاق کو بہتر بنانے اور اپنی اپنی طبیعت میں عاجزی اور انکساری اختیار کرنے کا خاص طور پر فرمایا۔ اور فرمایا ہر لمحہ شکر گزاری میں رہو کیونکہ بے شک اللہ تبارک تعالیٰ اس بندے سے خوش ہوتے ہیں جو ہرلمحہ اللہ تبارک تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہو آپ نے خصوصی اجتماعی دعا فرمائی اور ملک میں امن اور استحکام کی ترقی کی بھی دعا مانگی ۔
محترمہ ناظرہ مسعود صاحبہ نے شان اولیاء کے حوالے سے بیان دیا۔ آپ نے کہا کہ اولیا ء کرام کی صحبتیں انسان میں روحانی اور باطنی طور پر اصلاح فرماتی ہیں اور وہ ایسی ہستیاں ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والا کبھی بدبخت نہیں رہتا ۔
ان پاک ہستیوں کی صحبتوں میں بیٹھنے والا ہر لمحہ سیکھتا ہے ہر لمحہ اس کی دستگیری ہوتی ہے۔ جو جس طرح کی محبت رکھتا ہے ویسے ہی نوازا بھی جاتا ہے۔ حضور میاں چادر والی سرکار کے متعلق ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک مرتبہ آپ ملتان شریف میں ہی کسی محفل میں تشریف لے کر گئے۔ آپ سرکار کے ایک خادم نے بتایا کہ جب سرکار نے وضو کیا تو اپنی چادر مبارک کو اپنے دست مبارک سے اوپر کرکے اپنے سینہ مبارک سے لگا لیا تو وہ خادم یہ دیکھ کر بہت حیران ہوا لیکن اس وقت خاموشی اختیار رکھی پھر حضور میاں چادر والی سرکار نے اس خادم سے فرمایا چلو جی جلدی سے آستانہ عالیہ پر واپس چلو اور جب ہم آستانہ عالیہ پر پہنچے تو آپ سرکار نے اپنی چادر مبارک جھاڑی تو اس وقت اس خادم آستانہ عالیہ سے رہا نہیں گیا اور اس نے عرض کی حضور یہ معاملہ کچھ سمجھ نہیں آیا کہ آپ نے وضو کے وقت اپنی چادر مبارک کو سمیٹ کر اوپر کرلیا اور اب جھاڑ دیا حضور کرم فرما دیں۔ حضور میاں چادر والی سرکار نے اس وقت فرمایا! جی چادر میں آستانہ عالیہ سے ایک چیونٹی چڑھ گئی تھی اور وضو کے وقت جب نظر پڑی تو اسلئے چادر کو سمیٹ لیا کہ کہیں یہ چیونٹی یہاں گرگئی تو اپنے قبیلے سے نہ بچھڑ جائے جی اسلئے آستانہ عالیہ آکر چادر کو جھاڑا کہ یہ چیونٹی اپنے قبیلے میں سلامت پہنچ جائے۔ اس کے بعد وہ خادم آستانہ کہتے ہیں آپ سرکار دوبارہ محفل میں تشریف لے کر گئے۔
اگر صرف اس ایک واقعہ کو ہم سوچ لیں سمجھ لیں تو اس میں زندگی کے بہت سے پہلو نمایاں ہوئے اور اولیاء کرام کی باطنی کیفیات میں نرم دلی، رحم دلی کی ایک حیرت انگیز کیفیت سے پردہ اٹھتا نظر آتا ہے کہ حشرات الارض کیلئے اگر ایسی کیفیت ہے نرم دلی کی تو اللہ تعالیٰ کے بندوں پر کیسی محبت اور شفقت کی نظر ہوگی اور کیسے کیسے کرم ان کی صحبت میں بیٹھنے والوں پر ہونگے ان کی روحانی تربیت کہاں تک ہوتی ہوگی۔
اولیاء اللہ کی شان وکرامات کے واقعات کے ذکر کے ساتھ اس خوبصورت محفل کا اختتام ہوا۔
محفل کے آخر میں آقا ۖ کی بارگاہ میں صلوة وسلام کے نذرانے پیش کئے گئے محفل میں دوسرے شہروں سے آئی ہوئی کمیونٹی ورکرز اور امیر حلقہ صاحبان نے شرکت کی۔ محفل میں خصوصی لنگر کا اہتمام کیا گیا تھا۔